Sunday, October 6, 2013

Dange Fisadon Riots ka Season




آئے بارشوں کا موسم ہے 
محبّتوں ، چاہتوں  کا موسم ہے 

کچھ اس جیسا ہی انڈین فلمی نغمہ تھا 


بارش کے گوناگوں فائدے ہیں یہ الله کی رحمت ہے 

لیکن آج امت مسلمہ پر ایک دوسرا ہی موسم چھایا ہوا ہے اور وہ ہے 

دنگوں فسادوں قتل خون   بربادی کا موسم ہے 
لوٹ مار چھینا جھبتی زنا کاری کا موسم ہے 




یہ دنگے فساد  کی وجہہ مسلمانوں کے خلاف غصّہ اور نفرت کی انتہا ہے 
جب ہمارے غیر مسلم ہم وطنوں کا غصّہ اور انکی ہمارے لئے نفرت حد سے 
زیادہ بڑھ جاتی ہے تب دنگے فساد ہوتے ہیں 

ہم مسلمان یہ سمجھتے ہیں کے ہمارے دشمن سیاسی لیڈر عوام کے دلوں میں 
ہمارے بارے میں نفرت پیدا کرتے ہیں 

ایسا نہیں ہے ، بلکہ ہمارے غیر مسلم لیڈر تو صرف اس نفرت کو 
ایک پروپر طریقہ سے صحیح  سمت میں چننلیز کرتے ہیں 
اس نفرت کا صحیح  استعمآل کرتے ہیں 

ہمارے دشمن لیڈرز ہمارے غیر مسلم ہم وطنوں کے دلوں میں ہمارے لئے 
نفرت نہیں پیدا کر سکتے ، وہ تو صرف اس نفرت کا 
صحیح  استعمال کرتے ہیں 

نفرت تو ہم خود ہمارے غیر مسلم ہم وطنوں کے دلوں میں پیدا کرتے ہیں 

ہمارے اعمال دیکھو ، کونسے اچّھے ہیں 
ہمارے نو جوان آوارہ بد چلن ہیں 
 چوریاں ڈاکے ہمارے نو جوان ڈالتے ہیں 
زناکاری میں ہمارے نو جوان بھی کسی سے پیچھے رہنا نہیں چاہتے 



ہمارے علما پھر بھی چین کی نیند سوتے ہیں 
ہمارے علما کے پاس ہمکو آپس میں لڑھا نے کے سوا کوئی دوسرا 
مسلہ ہی انکو نظر نہیں آتا 

شادی بیاہ میں جہیز کی ایک بہت بڑھی لعنت ہم مسلمانو ن پر الله 
نے مسلّط کی ھوی ہے 

مگر اس مسلے پر ہمارے علما کبھی زبان درازی کی گستاخی نہیں کرتے 

جمعہ کا خطبہ تو خاص الله نے مسلمانوں میں منافرت پیدا کرنے کے لئے 
ہمارے علما پر حلال فرمایا ہے 

 اب بات چلی تھی دنگے فسادوں کی ، یہ بیچ میں جمعہ
کا خطبہ کہاں آگیا 

نہیں  بات تو ہم دنگے فسادوں ہی کی کریں گے ، دنگے فسادوں 
کے لئے جو نفرت اور غصّہ ہوتا ہے وہ 

ہمارے اپنے اعمال کی وجہہ سے ہوتا ہے ، ہمکو پہلے  اپنے اعمال 
ٹھیک کرنے ہونگے 

الله کا غضب ہم پر ہے ، اس بات کو ہم بھولے  ہوے ہیں 
یہ الله کی مار ہے 
کوئی دشمن ہمکو نہیں مار سکتا 

صرف ہمارے غیر مسلم ہم وطن ہی ہمارے دشمن نہیں ہیں 
ہم مسلمانوں میں بھی آپس میں خوب دشمنیاں ہیں 

مسلمان مسلمان کا دشمن ہے 

ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو پریشان  کرتا ہے ، جھوٹے مقدّموں 
میں پھنستا  ہے ، ہر قسم کی اذیت دیتا ہے اور دوسرا مسلمان پڑوسی 
بڑھے مزے سے دیکھتا ہے ، ظالم کو ظلم کرنے سے نہیں روکتا 
 ہمارے نوجوان جوا  کھیلتے ہیں، زنا کرتے ہیں ،لڑکیوں کو چھیڑتے ہیں 
مگر کوئی انکو روکنے والا نہیں 

کبھی کبھی ہمارے آوارہ نو جوان غیر مسلموں 

کے ساتھ بھی ایسی گھناؤنی حرکت کر جا تے ہیں 

یہ سب باتیں غیر مسلموں کے دلوں میں ہمارے بارے میں نفرت پیدا کرنے کا 
سبب بنتیں ہیں 

ہونا تو یہ چاہیے تھا کے ، ہم سب مسلمان متحد ہوتے 
ہمارے گلی محلے میں ایسے نو جوانوں کی ایک نجی پولیس ہوتی 
جو ہمارے آپسی مسایل حل کرتی 
ہماری اپنی ایک نجی عدالت ہوتی جو ہمارے قوم کے فیصلے خود کرتی 
ہمارے نوجوانوں کی نجی پولیس ہمارے گلی محلوں میں تعینات ہوتی 
اور مسلمانوں کو آپس میں لڑھنے نہیں دیتی 

اگر کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کو تنگ کرتا یا پریشان کرتا تو 
اس نالایق مسلمان کو پکڑ کے پولیس کے حوالے کرتی 
اور پولیس کے سامنے گواہی دیتی ، تو کیا مجال تھی کے کوئی 
نالایق مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو پریشان کرے 

مگر نہیں ، ہم مسلمان تو عقل اور دماغ سے خالی ہیں 
الله نے ہمیں دماغ جیسی نعمت  سے محروم رکّھا 

ایسا نہیں ہے کے انفرادی مسلمانون  کو عقل نہیں ہے ، بہت عقل اور دماغ ہے 

مگر الله کی مار کے سامنے کیا کر سکتے ہیں 

عقل اور دماغ والے بیچارے مسلمان اپنا کمانے کھا نے میں لگے ہوے ہیں 

اور جو ہمارے علما ہیں وہ تو بیچارے وہ لوگ ہیں جو بچپن میں ہی اپنی 
برائی ، نالائقی اور نہ اہلی کا ثبوت لیکر پیدا ہوے اسی لئے انکے ماں باپ نے 
انکو حافظ اور عالم بنا نے کے لئے عربی مدرسے میں ڈال دیا 
کیوں کے انکے ماں باپ کو معلوم تھا کے یہ نکممے دوسرے کسی مصرف کے نہیں 

بھلا اب آپ ہی بتائے کے ایسے علما سے بھلا کیا بھلائی کی امید کی جا سکتی ہے 

وہ بیچارے تو پیدا ہی معذور  ہوے تھے 
عقل سے بھی معذور  
آج جو امّت کی درگت بنی ھوی ہے  اسکے زممدار یہ علما  ہیں 
انکے پاس مذہب کی طاقت تھی  اس طاقت کا صحیح 
استمعال کرکے بر  وقت انہوں نے ہمارے معاشرے 
میں پیدا ہونے والے فتنو ن  کو نہیں دبایا 
ان فتنہ پردازوں کا مکممل بائیکاٹ  کرنا چاہیے تھا 
مگر ان علما نے محض  احتجاج کر کے چپ رہنے سے 
زیادہ کچھ نہیں کیا 
نتیجہ آپ کی نظروں کے سامنے ہے ، مسلمان کا خون 
گندی نالی کے کالے پانی سے بھی زیادہ سستا  ہے اور 
انکی لڑکیوں کی عزت کتیوں کی عزت کے برابر 
  
آج ہم کو ضرور کچھ کرنا چاہیے ورنہ یہ معصوم 
بچچوں کو کس کے بھروسے پر چھوڈ کے جا رہے ہو 

ہم کو ہمارے معاشرے میں اتحاد ، اتفاق کی سخت ضرورت ہے 
ہمارے ہر گلی محلے میں ہماری اپنی نجی پولیس ہونا چاہیے 
ہمارے ہر محلے میں ہماری اپنی ایک نجی عدالت ہونی چاہیے ، جو ہمارے 
آپسی معملات کو حل کرے ، ہماری نجی پولیس ہمارے معصوم مسلم بھائیوں 
کی مدد کرے ، تب ہی ہم پر الله کا کرم ہو سکتا ہے 

غیر مسلموں کے دلوں سے نفرت اور غصہ دور ہوسکتا ہے 

یہودیوں کو دیکھو ،حضرت مسیح کے زمانے میں  رومن حکومت کے اندر بھی انکی اپنی ایک نجی عدالت تھی 
جسکو سنھدرن کہتے تھے ، یہ عدالت انکے آپسی مسایل کا حل کرتیں تھیں 

آج ہمکو غیروں کے پاس انصاف کے لئے   کیوں جانا ہے ، جب کے ہم اپنے مسلے خود حل کر سکتے ہیں 

ہماری نوود  فصد  پریشانیوں  کا حل صرف  ہماری 

نجی پولیس اور ہماری اپنی نجی عدالت  ہی حل 
کر سکتی ہے 

اپنی نجی پولیس اور عدالت  رکھنے  کا مطلب  یہ نہیں 

کہ  ہم موجودہ  حکومت کے خلاف جا رہے  ہیں ، نہیں 
بلکہ  ہماری  نجی پولیس ہمارے معاشرے  کے بد  کردار 
لوگوں  کو گرفتار  کر کے  حکومت کی پولیس اور 
عدالت کو سونمپ  دے گی ، مجرموں کے خلاف گواہی دیگی  اس طرح ہمارے معاشرے 
میں امن اور سکوں قایم  ہوگا  جو ہماری دوسری برائیوں 
کو بھی دور کر دیگا 

آج مسلمانوں کا ایک بھی مخلص رہنما  نہیں ہے 
ورنہ وہ اسطرح  ضرور سونچتا جسطرح آج 
میں سونچ رہا ہوں 

مسلمانوں کے تمام لیڈر پیسے ہڑپ کرنے کی اسکیمیں 

سونچتے ہیں اسطرح کا رفاہی کام وہ نہیں سونچ 
  سکتے ، آو  
 مسلم نوجوانوں ایک با عزت مسلم معاشرہ بنا ئیں ، ہر گلی 
کوچے میں اپنی نجی پولیس بنا ئیں ، ایک نجی عدالت بنا ئیں 
اپنی پولیس کو ہم تنخواہ دینگے 
ہم بیس کروڑ  مسلمان آپس میں چندہ جمعہ  کرکے کیا 
یہ کام نہیں کر سکتے 

نجی یعنی پرائیویٹ پولیس کا مطلب ہے پرائیویٹ 

سیکورٹی گارڈ 
پرائیویٹ سیکورٹی گارڈ تو ہر کوئی رکھہ  سکتا ہے قانونن  اسکی اجازت ہے ، ہر دوکان کارخانے میں نجی سیکورٹی 
گارڈس ہوتے ہیں ، اسمیں تعجب  کی کیا بات ہے 
 اب ہمارے یہ نجی پولیس والے 
ہمارے گلی محلے میں تعینات  ہونگے اور وہ  مسلمانوں 
کی حفاظت کے علاوہ شرارتی مسلمانوں  کو گرفتار 
کرکے حکومت کے پولیس اور عدالت کو سونمپ دیں  گے 
اب کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کو پریشان  کر کے دیکھ لے 
چاہے جہیز کا مسلہ ہو چاہے پراپرٹی کا جھگڑا 
ہماری نجی عدالت اور ہماری نجی پولیس اپنے مسلے 
خود حل کریں گئیں 
جب ہمارے معاشرے میں امن و سکون ہوجاۓ گا  تب  
ہماری دوسری تمام برایییاں  بھی ختم ہونا شروع  ہونگیں 

مسلمان جہاں کہیں بھی بستے ہے وہاں سکوں نام کی چیز نہیں ہے 

 یہ الله کا غضب اور قہر ہے 

یہ بارشوں کا موسم نہیں 
خون کی بارشوں کا موسم ہے 

غفلت میں رہنے کا نہیں  کچھ  کرنے کا موسم  ہے 


جب ہماری حکومت  ہماری  حفاظت نہیں  کر  سکتی  تو 


اسے ہمکو اپنی حفاظت آپ  کرنے  سے روکنے  کا  کیا 

حق ہے 


ہم  

کو خود  کی حفاظت  کا حق  حاصل ہے ، یہ بات  ہمارے 


رهنما ون  کے دماغ  میں کیوں  نہیں آتی 






1 comment:

  1. ~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~

    Today Funnies | Largest Collection of Latest Funny Pictures, Funny Girls, Funny Babies, Funny Wife, Funny Husband, Funny Police, Funny Students And Cartoon Plus Bizarre Pics Around The World.
    Just Visit 2 My Site...

    http://todayfunnies.com

    ~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~

    ReplyDelete